سپریم کورٹ نے پولیس ریکارڈ میں توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

14 گھنٹے قبل
سپریم کورٹ نے پولیس ریکارڈ میں توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

اسلام آباد( پاکستان خبر) سپریم کورٹ نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے انسپکٹر جنرلز آف پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ایف آئی آرز، گرفتاری کے میمو، تحقیقاتی رپورٹس، چالان یا پولیس کے کسی بھی ریکارڈ میں شکایت کنندہ، ملزمان، متاثرین یا گواہوں کے ناموں کے ساتھ ذات، قبیلہ، برادری، تبدیلیِ مذہب یا کسی بھی توہین آمیز اور درجہ بندی والے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک فوجداری کیس کی سماعت کے دوران متنبہ کیا کہ اس اصول سے انحراف صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا جب تفتیشی افسر جرم سے متعلق نیک نیتی پر مبنی تحقیقاتی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرے اور اس پر یقین رکھے کہ شناخت دینا سخت ضروری ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انسانی وقار کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر فرد کا ناقابل تنسیخ حق ہے، اور معاشرتی تعصب کی بنیاد پر کسی کو کم تر سمجھنا قابلِ قبول نہیں۔فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بھنگی، چوڑا، میراثی، جمعدار، ڈوم اور مصلی جیسی اصطلاحات اب محض کسی ذات کی تعریف کے لیے استعمال نہیں ہوتیں بلکہ توہین آمیز ریمارکس کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔