آبنائے ہرمز کے لیے جنگی جہاز بھیجیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل، عالمی ممالک نے انکار

2 گھنٹے قبل
آبنائے ہرمز کے لیے جنگی جہاز بھیجیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل، عالمی ممالک نے انکار

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بحریہ کے جنگی جہاز امریکا کے ساتھ بھیجیں تاکہ اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھا جا سکے، تاہم اب تک کسی بھی ملک نے اس تجویز پر واضح طور پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ کو اس اقدام میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ ان کی معیشتیں بھی خلیج کی تیل کی سپلائی پر انحصار کرتی ہیں۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے ہرمز کے راستے کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا، اور برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے ٹرمپ کو انکار کیا۔ جاپان، آسٹریلیا اور فرانس نے بھی جہاز بھیجنے سے انکار کیا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ کئی ممالک نے اپنے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ایرانی فوج کرے گی۔بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر کے مطابق نئی دہلی اور تہران کے درمیان مذاکرات کے بعد بھارتی پرچم بردار دو گیس ٹینکرز کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔عالمی سطح پر اس منصوبے پر ردعمل محتاط رہا ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈپل نے کہا کہ جرمنی کسی نئی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ادھر ایران کی فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نے امریکی صدر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو لگتا ہے کہ ایران کی بحریہ تباہ ہو چکی ہے تو وہ اپنے جہاز خلیج فارس میں بھیج کر دیکھ لے۔رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد کم از کم دس آئل ٹینکرز پر حملے یا حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں، اور تقریباً ایک ہزار جہاز ہرمز کے راستے میں پھنسے ہوئے ہیں، جس سے عالمی توانائی کی منڈی اور سمندری تجارت کے لیے بڑے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔