ممبئی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں تیار جنگی طیارے تیجس کے مسلسل حادثات اور ناکامی نے ملک کی فضائی دفاعی صلاحیت پر سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 7 فروری 2026 کو تیجس کے تیسرے حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے اپنی 30 طیاروں کی پوری فلیٹ کو خاموشی سے گراؤنڈ کر دیا ہے۔تیجس پروگرام 1981 میں شروع ہوا جبکہ پہلی ٹیسٹ فلائٹ 2001 میں ہوئی، لیکن بھارت اب تک اپنا انجن تیار نہیں کر سکا۔ تیجس کے طیاروں کے انجن، ایویونکس، ریڈار سسٹمز اور ہتھیار امریکہ اور اسرائیل سے درآمد کیے گئے ہیں، اور کسی طیارے کی پوری فلیٹ کو گراؤنڈ کرنا تکنیکی مسائل کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے پاس ففتھ جنریشن طیارہ موجود نہیں اور روسی ساختہ SU-57 میں دلچسپی کے باوجود امریکی ناراضگی کا خدشہ ہے۔ 6 مارچ کو روسی ساختہ SU-30MKI جنگی طیارہ بھی جورہٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوا۔عسکری ماہرین کے مطابق بھارتی فضائیہ کے لیے کم از کم 42 اسکواڈرن درکار ہیں، لیکن اسکواڈرن کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ تیجس کی گراؤنڈنگ، اسکواڈرن کی کمی اور دیگر آپریشنل مسائل بھارت کی فضائی طاقت کی ساختی کمزوریوں کو واضح طور پر ظاہر کر رہے ہیں۔
بھارتی جنگی طیارہ تیجس ناکامی کے بعد گراؤنڈ، فضائی طاقت پر سوالات پیدا ہو گئے
1 گھنٹے قبل