ڈھاکہ( مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کے تیرہویں عام انتخابات میں بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے۔پارٹی قیادت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ 15 فروری کو حکومت قائم کی جائے گی اور اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر نئی انتظامیہ تشکیل دی جائے گی۔ جماعت اسلامی کو ایک مضبوط حریف قرار دیا گیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بنگالی چینل جامونا ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو 300 میں سے 212 نشستوں پر برتری حاصل ہو چکی ہے، جبکہ جماعت اسلامی اتحاد 70 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا ہے۔دوسری جانب نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ٹرن آؤٹ تقریباً 60 فیصد رہا۔ملک بھر میں صبح کا آغاز اسی خبر کے ساتھ ہوا کہ بی این پی واضح برتری کے ساتھ اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ پارٹی کے رہنما طارق رحمان وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل، بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کو تیار
11 گھنٹے قبل