نمیبیا ( سپورٹس ڈیسک)ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کا سپر ایٹ مرحلہ آغاز کے قریب ہے اور آٹھ میں سے سات ٹیمیں فائنل ہو چکی ہیں۔ آٹھویں ٹیم کا فیصلہ آج پاکستان اور نمیبیا کے میچ کے نتیجے پر منحصر ہے۔بارش کی صورت میں دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملے گا لیکن اگر میچ مکمل ہوگا تو پاکستان کے لیے لازمی ہے کہ وہ فتح حاصل کرے۔ شکست کی صورت میں امریکی ٹیم سپر ایٹ میں جگہ بنا لے گی۔حیرت انگیز طور پر اس بار فیورٹس میں شمار کی جانے والی آسٹریلوی ٹیم پہلے راؤنڈ میں ہی ایونٹ سے باہر ہو چکی ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائی شروع ہو گئی ہے کہ جب بھی آسٹریلیا ابتدائی مرحلے میں باہر ہوئی، پاکستان میگا ایونٹ جیت گیا۔تاریخی اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے اپنا واحد آئی سی سی ورلڈکپ 1992 میں جیتا، اور اس دوران آسٹریلیا راؤنڈ روبن میں باہر تھی۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2009 میں بھی پاکستان فاتح بنا اور آسٹریلیا گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے ٹائٹل جیتا اور آسٹریلیا پھر گروپ سے باہر رہی۔اسی وجہ سے پاکستانی شائقین کرکٹ یہ خوش فہمی رکھتے ہیں کہ اس بار بھی آسٹریلیا کے ابتدائی مرحلے میں باہر ہونے کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ پاکستان جیت سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ محض اتفاق ہے اور پاکستان کی جیت آسٹریلیا کی کارکردگی سے وابستہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو 1979 اور 1983 کے ورلڈکپ میں بھی آسٹریلیا کے ابتدائی مرحلے میں ناکامی کے باوجود پاکستان کامیاب ہوتا، لیکن دونوں ایونٹس میں پاکستان سیمی فائنل میں ہارا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ 2013 کی چیمپئنز ٹرافی میں نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پاکستان بھی گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا۔
پاکستان اور نمیبیا کے میچ سے سپر ایٹ مرحلے کا آخری فیصلہ، شائقین کرکٹ کی خوش فہمی پھر زندہ
15 گھنٹے قبل