تہران( ماینٹرنگ ڈیسک)ایران میں نوبیل انعام یافتہ انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو خواتین کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کے سلسلے میں ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق نرگس فاؤنڈیشن نے بتایا کہ 53 سالہ نرگس محمدی نے حال ہی میں ایک ہفتے کی بھوک ہڑتال ختم کی تھی، تاہم جیل سے اپنے وکیل کو فون پر اطلاع دی کہ انہیں نئی سزا سنائی گئی ہے۔نوبیل انعام یافتہ کارکن کو 6 سال قید اجتماع اور قومی سلامتی کے خلاف سازش کے الزام میں، ڈیڑھ سال قید حکومت کے خلاف پراپیگنڈے کے الزام میں، دو سال اندرونی جلاوطنی اور دو سالہ سفری پابندی کی بھی سزا دی گئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔نرگس محمدی کو 12 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے وکیل خسرو علی کردی کی مشتبہ موت کی مذمت کی تھی۔ پراسیکیوٹر حسن ہمتفار کے مطابق نرگس محمدی نے مشہد میں یادگاری تقریب کے دوران اشتعال انگیز بیانات دیے اور شرکا کو نعرے بازی کی حوصلہ افزائی کی۔یاد رہے کہ نرگس محمدی کو 2023ء میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا، اور اس سے قبل بھی وہ خواتین کے حقوق کی وکالت اور ایران میں موت کی سزا ختم کرنے کے لیے سرگرم رہی ہیں۔
ایران میں نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی کو ساڑھے سات سال قید سنا دی گی
1 دن قبل