اسلام آباد(پاکستان خبر) قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا، جس میں سولر نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کے حکومتی فیصلے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا۔اجلاس شروع ہوتے ہی کورم کی نشاندہی کی گئی اور ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کی کاروائی کورم مکمل ہونے تک معطل کردی۔ کورم مکمل ہونے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔وقفہ سوالات کے دوران معین پیرزادہ نے کے الیکٹرک کے فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کے دورانیے سے متعلق سوال کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال نے جواب دیا کہ اگلے اجلاس میں تفصیلات فراہم کی جائیں گی، جس پر ایم کیو ایم کے اراکین نے احتجاج کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ اس پالیسی پر گزشتہ دنوں میڈیا، پارلیمنٹ اور سوشل میڈیا پر مفصل بحث ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے کی مخالفت اپنی جماعت میں بھی سامنے آئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں سولر کا حجم تقریباً 20 سے 22 ہزار میگاواٹ ہے، جس میں 7000 میگاواٹ صارفین سولر نیٹ میٹرنگ سے جڑے ہیں۔ 12 سے 14 ہزار میگاواٹ کے سولر صارفین کا نیٹ میٹرنگ فیصلے سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ 6 سے 7 لاکھ بجلی کے صارفین اس وقت نیٹ میٹرنگ پر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2017 سے اب تک چار سے پانچ بار نیپرا نے ریگولیٹری تبدیلیاں کیں، تاہم اس پالیسی پر نظر ثانی وزیراعظم کی ہدایت پر جاری ہے۔
قومی اسمبلی میں سولر نیٹ میٹرنگ پر بحث اور توجہ دلاؤ نوٹس
11 گھنٹے قبل