اسلام آباد(پاکستان خبر)سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف دی کورٹ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے جیل میں حالات سامنے آ گئے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان سیل میں فراہم کردہ خوراک، ہوا، روشنی اور صفائی پر اطمینان رکھتے ہیں۔سردی میں ہیٹر، بلور اور گرم پانی جبکہ گرمی میں کولر فراہم کیا جاتا ہے۔ سیل میں تقریباً 10 کیمرے ہیں، لیکن کمرے کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی حفاظت کے لیے ہیں۔خوراک میں ہفتے کے دو دن چکن، دو دن گوشت اور دو دن دال یا سینڈوچ شامل ہیں، پانی بوتل بند فراہم کیا جاتا ہے اور ناشتے میں دلیہ، کافی اور کھجوریں شامل ہیں۔روزمرہ معمول میں صبح ناشتہ، ایک گھنٹہ قرآن کی تلاوت اور جسمانی ورزش شامل ہے۔ انہیں 100 کتابیں اور 32 انچ کا ٹی وی بھی دستیاب ہے۔صحت کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہے اور بلڈ کلاٹ کا خطرہ موجود ہے۔ عدالت نے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت دی، لیکن فیملی ممبر کے ساتھ معائنہ مسترد کیا گیا۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تمام طبی سہولیات ریاست کی ذمہ داری کے تحت فراہم کی جائیں اور ملاقات و رابطے کی سہولت بھی دی جائے، جو 16 فروری سے قبل مکمل ہونی چاہیے۔
عمران خان جیل میں سہولیات سے مطمئن، آنکھوں کے ماہر تک رسائی مل گئی
12 گھنٹے قبل