بھارت( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی ایران کے ساتھ خارجہ پالیسی ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد بھارتی حکام نے ایرانی تیل بردار جہازوں کو ضبط کر لیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام پر تین آئل ٹینکروں کو تحویل میں لیا۔ یہ کارروائی ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر کی گئی، جہاں ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی نامی جہاز روکے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تمام جہاز ایران سے منسلک تھے اور تجارتی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت اس سے قبل امریکی دباؤ کے تحت چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے دستبردار ہو چکا ہے، حالانکہ ایران کے ساتھ شراکت داری کے دعوے کیے جاتے رہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امریکہ کی پابندیوں سے پہلے بھارت نے ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی ادائیگی بھی کر دی تھی۔عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی بھارت کی متضاد اور موقع پرستانہ خارجہ پالیسی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔