لندن( مانیٹرنگ ڈیسک)ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق تازہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن شہزادہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کو شاہی لاج سے نکال دیا گیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ نئی دستاویزات میں سامنے آنے والے الزامات کی بنیاد پر کیا گیا، جبکہ کنگ چارلس نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے بعد شہزادہ اینڈریو کو سینڈرنگھم منتقل کر دیا گیا ہے، اور شاہی خاندان نے اس معاملے میں فاصلہ اختیار کیا ہے۔امریکا میں ایپسٹین اسکینڈل کی تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور سابق خاتونِ اول ہلیری کلنٹن کانگریس میں گواہی دینے کے لیے آمادہ ہیں۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ شہزادہ اینڈریو امریکا آ کر بیان دیں۔ادھر برطانوی پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ ڈیوک آف یارک کے دور میں ایک اور کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر جہاز کے ذریعے برطانیہ لایا گیا تھا۔ تحقیقات شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ای میل میں شہزادہ اینڈریو نے جیفری ایپسٹین سے غیر مناسب نوعیت کی بات چیت کی تھی، جسے تحقیقات میں شامل کیا گیا۔ اس معاملے پر برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے سیاستدان لارڈ مینڈلسن کے خلاف بھی مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لارڈ مینڈلسن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایپسٹین کو اہم معلومات فراہم کیں، جس کے بعد وہ ہاؤس آف لارڈز سے مستعفی ہو گئے۔
ایپسٹین اسکینڈل: شہزادہ اینڈریو شاہی لاج سے نکالے گئے
14 گھنٹے قبل