امریکا اور ایران جینیوا میں بالواسطہ مذاکرات جاری

1 گھنٹے قبل
امریکا اور ایران جینیوا میں بالواسطہ مذاکرات جاری

جینیوا( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کے بعد غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران پر ’خطرناک جوہری عزائم‘ رکھنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو ’بڑے جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران کے میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج دو ہزار کلومیٹر ہے، جبکہ امریکی کانگریس کی رپورٹ کے مطابق یہ تقریباً تین ہزار کلومیٹر تک ہو سکتی ہے، جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کے لیے ناکافی ہے۔مذاکرات کا مرکزی موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ امریکا اب ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت کو بھی مذاکرات میں شامل کرنا چاہتا ہے۔