اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ نے امریکا سے 6 ملین بیرل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل درآمد کرنے کے لیے 430 ملین ڈالرز کا تجارتی معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور امریکا کے درمیان نجی شعبے میں خام تیل کی درآمد کا اب تک کا سب سے بڑا سودا قرار دیا جا رہا ہے۔معاہدے کے تحت 3 ملین بیرل خام تیل پہلے ہی سینرجیکو کی ریفائنری میں پراسیس کیا جا چکا ہے، جب کہ باقی تین کارگو، ہر ایک ایک ملین بیرل پر مشتمل، رواں سال فروری اور مارچ 2026 میں پاکستان پہنچیں گے۔ اس اقدام سے آئندہ مہینوں میں خام تیل کی مسلسل اور مستحکم فراہمی ممکن ہو سکے گی۔اہم بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ کسی سرکاری ضمانت یا حکومتی مالی معاونت کے بغیر طے پایا، جس کے باعث قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑا۔ ماہرین کے مطابق اس سے نجی شعبے کے ذریعے تجارتی خسارے میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا سے خام تیل کی درآمد پاکستان کے لیے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی جانب ایک مؤثر قدم ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ اور بالخصوص آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہو گا، جو جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک حساس راستہ سمجھا جاتا ہے۔اس تنوع میں سینرجیکو کی سنگل بوائے مورنگ سہولت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، جو پاکستان کا واحد گہرے سمندر میں واقع خام تیل ہینڈلنگ سسٹم ہے۔ اس سہولت کے ذریعے ویری لارج کروڈ کیریئرز سے براہ راست تیل اتارا جاتا ہے، جو زیرِ سمندر پائپ لائن کے ذریعے ریفائنری تک پہنچایا جاتا ہے۔یہ نظام امریکا اور افریقہ جیسے دور دراز خطوں سے تیل کی درآمد کو ممکن بناتا ہے اور بندرگاہوں پر دباؤ، کرایہ اور تاخیر جیسے اضافی اخراجات میں نمایاں کمی لاتا ہے۔سینرجیکو کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی کا کہنا ہے کہ نجی شعبہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا سے خام تیل کی درآمد نہ صرف تجارتی خسارہ کم کرنے میں معاون ثابت ہو گی بلکہ توانائی کے ذرائع میں تنوع کے ذریعے معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بھی محفوظ بنایا جا سکے گا۔
توانائی میں نیا موڑ، پاکستان کی امریکا سے خام تیل کی بڑی ڈیل
16 گھنٹے قبل