اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں، تاہم وہ منصفانہ اور متوازن سولر پالیسی کی حامی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی گرڈ پر صارفین کی واپسی سے اضافی بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں 12 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوئی ہے۔اویس لغاری نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ غیر منظم رؤف ٹاپ سولر گرڈ کی استحکام کے مسائل پیدا کرتا ہے، اور رات کے وقت بجلی کے لیے گیس اور دیگر مستحکم ذرائع ضروری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قطر سے ایل این جی کی سپلائی متاثر ہے، اور طلب کا مناسب انتظام ناگزیر ہے۔ کھاد کے سیکٹر کو گیس کی فراہمی ترجیح دی جائے گی، جس کے باعث کمرشل اور ہائی اینڈ صارفین پر عارضی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔اویس لغاری نے یہ بھی واضح کیا کہ ہم مکمل طور پر کوئلے پر انحصار نہیں کر سکتے۔ کوئلہ بیس لوڈ کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ گیس پلانٹس گرڈ کے لیے لچکدار بجلی فراہم کرتے ہیں اور گرڈ کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
حکومت منصفانہ اور متوازن سولر پالیسی کی حامی ہے:اویس لغاری
3 گھنٹے قبل