اسلام آباد( کامرس ڈیسک)مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پاکستان میں مہنگائی 12 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے، کیونکہ تیل کی ترسیل میں خلل قیمتوں میں فوری اضافہ کر سکتا ہے۔حکام کے مطابق پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات پر مبنی اسٹڈی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے سے روزانہ 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے، اور اگر ترسیل رک گئی تو قیمتوں میں فوری اضافہ متوقع ہے۔پائیڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ ماہ میں مہنگائی 8.8 فیصد سے شروع ہو کر درمیانی شاک کی صورت میں 10.4 فیصد اور شدید شاک کی صورت میں 12 فیصد تک جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ تیل کی درآمدات کا ماہانہ بل 384 ملین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے، جس کی وجہ سے سالانہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس سے 4.6 ارب ڈالر کے خسارے میں جا سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی 22 فیصد درآمدات توانائی کی مصنوعات پر مشتمل ہیں، اور شپنگ، انشورنس، روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں کی شرح بھی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نے ہنگامی پالیسی اقدامات کی سفارش کی ہے۔ ساتھ ہی ٹرانسپورٹ، زراعت اور خوراک میں استعمال ہونے والے ڈیزل پر خصوصی نگرانی اور سپلائی چین میں بہتری سے اس پر انحصار کم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان میں مہنگائی 12 فیصد تک جا سکتی ہے: ماہرین
3 گھنٹے قبل