خرطوم( مانیٹرنگ ڈیسک)وسطی سوڈان میں انسانی المیے میں مزید اضافہ ہو گیا، جہاں ورلڈ فوڈ پروگرام کے امدادی قافلے پر حملے کے ایک روز بعد بے گھر خاندانوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 8 بچے بھی شامل ہیں۔سوڈان میں جنگی صورتحال پر نظر رکھنے والے سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق یہ حملہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے شمالی کردفان ریاست کے شہر الراھد کے قریب کیا گیا۔ متاثرہ گاڑی ان افراد کو لے جا رہی تھی جو ڈبیکر کے علاقے میں جاری جھڑپوں کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔ڈاکٹرز نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں علاج کے لیے الراھد کے ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم یہ ہسپتال کردفان کے دیگر علاقوں کی طرح شدید طبی سہولیات اور ادویات کی کمی کا شکار ہے۔نیٹ ورک نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہری آبادی کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں اور ان مبینہ خلاف ورزیوں پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی قیادت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ یہ فورسز گزشتہ تقریباً تین برس سے ملک کے کنٹرول کے لیے سوڈانی فوج کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔یاد رہے کہ سوڈان اپریل 2023 میں شدید بدامنی کا شکار ہوا، جب سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے خرطوم سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مکمل جنگ کی صورت اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔