اسلام آباد( کامرس ڈیسک)عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے جون تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کے خاتمے اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں ممکنہ 5 فیصد کمی کو اپنی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، جن میں وزارت خزانہ کے حکام نے معاشی صورتحال اور نئے بجٹ سے متعلق ٹیکس تجاویز پر بریفنگ دی۔مذاکرات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے پاکستان کے لیے معاشی خطرات اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے، البتہ ترسیلات زر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق فروری 2026 میں بنیادی یا کور انفلیشن 7.6 فیصد تک پہنچ گئی، اور خوراک، ایندھن اور توانائی کی مہنگائی مزید اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور سپر ٹیکس کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف کی منظوری لازمی ہوگی۔
آئی ایم ایف نے 18 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ہدف اور بجٹ ریلیف کی منظوری سے مشروط کر دیا
6 گھنٹے قبل