واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو لاحق خطرات کے بارے میں امریکا کے اعلیٰ عسکری کمانڈرز برسوں سے خبردار کرتے رہے، تاہم امریکی حکومتیں ان انتباہات کو نظرانداز کرتی رہیں۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے ان فوجی اڈوں سے اہم اثاثوں کی منتقلی کے حوالے سے سفارشات کو نظرانداز کیا، جس کے نتیجے میں حالیہ ایرانی حملے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئے۔گزشتہ جمعے ایران کے بیلسٹک میزائلز اور ڈرونز نے سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں تقریباً ایک درجن امریکی فوجی زخمی ہوئے اور کئی قیمتی طیارے تباہ ہو گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران سے 400 میل سے بھی کم فاصلے پر واقع اس اڈے پر بمباری کے دوران ایک ای 3 AWACS ریڈار طیارہ اور کئی KC-135 ری فیولنگ ٹینکرز تباہ ہو گئے۔اخبار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہان، جن میں جنرل فرینک میکنزی اور جنرل ایرک کوریلا شامل ہیں، طویل عرصے سے فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کی تجاویز دیتے رہے۔مزید بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات امریکا اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے پہلے خطرات نظرانداز کیے گئے
10 گھنٹے قبل