واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن کے تمام مقاصد کے مکمل ہونے تک جنگ جاری رہے گی اور آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں کارروائیاں مزید شدت اختیار کریں گی۔صدر ٹرمپ نے عوام سے خطاب میں بتایا کہ امریکی فوج نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کی نیوی اور ایئر فورس کو تباہ کر دیا ہے، کئی اہم رہنما ختم ہو چکے ہیں اور ایران کی ایٹمی صلاحیت بھی محدود ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اب کوئی خطرہ نہیں رہا اور جنگ کے سٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں۔صدر ٹرمپ نے ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی اشارہ دیا اور ایرانی حکومت پر 45 ہزار مظاہرین کے قتل کا الزام عائد کیا، تاہم کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حکومت مسلسل امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے لگاتی رہی ہے اور اب تنازع ختم ہونے کے قریب ہے، جس سے آبنائے ہرمز پر کشیدگی خود بخود کم ہو جائے گی۔خطاب میں صدر ٹرمپ نے اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کو اہم ممالک قرار دیا اور کہا کہ امریکہ کسی بھی طور پر ان ممالک کو نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔تیل کی قیمتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ایران کے ہمسایہ ممالک پر حملوں کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، لیکن اب امریکہ تیل اور گیس کا سب سے بڑا پیدا کنندہ بن چکا ہے اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کم ہو گیا ہے۔
امریکی صدر کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان
10 گھنٹے قبل