واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے جوہری مواد پر قبضہ کرنے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی پر بات چیت ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مخصوص اہداف کے لیے ایران میں فوج بھیجنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اہم مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔ ایران کے پاس موجود تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اسے چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس مواد کو قبضے میں لینے کے لیے ممکنہ کارروائی کے دوران امریکی یا اسرائیلی فوجیوں کو ایرانی سرزمین پر جا کر زیر زمین جوہری تنصیبات تک پہنچنا پڑ سکتا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ آپریشن امریکا، اسرائیل یا دونوں کی مشترکہ فوجی مہم کے تحت ہوگا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس میں ایران کے افزودہ یورینیئم کے محفوظ بنانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کے لیے موقع پر جا کر اسے حاصل کرنا ہوگا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کام کون انجام دے گا۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق انتظامیہ دو امکانات پر غور کر رہی ہے: ایک، یورینیئم کو ایران سے باہر منتقل کرنا اور دوسرا، جوہری ماہرین کو وہاں بھیج کر اسی مقام پر افزودگی کم کرنا۔ اس مشن میں اسپیشل فورسز کے ساتھ سائنس دان بھی شامل ہو سکتے ہیں، جن میں ممکنہ طور پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ماہرین بھی شامل ہوں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ پر قبضے کے امکانات پر بھی بات چیت کی ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔
امریکا ایران کے افزودہ یورینیئم قبضے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے: امریکی اخبار
2 گھنٹے قبل