صرف قبضہ یا عرصہ طویل زمین رکھنے سے ملکیت نہیں بنتی:سپریم کورٹ

3 گھنٹے قبل
صرف قبضہ یا عرصہ طویل زمین رکھنے سے ملکیت نہیں بنتی:سپریم کورٹ

اسلام آباد( پاکستان خبر) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف قبضہ یا طویل عرصہ زمین رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔جسٹس شاہد بلال حسن کے جاری کردہ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ زبانی معاہدوں کے مقدمات میں سخت معیارِ ثبوت لاگو ہوگا اور درخواست گزار غلام علی کی درخواست منظور کی گئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں لاہور ہائیکورٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیے گئے۔سپریم کورٹ نے تحریری مؤقف دیا کہ 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے کو قانون کے مطابق ثابت نہیں کیا جا سکا۔ زبانی معاہدہ ثابت کرنے کے لیے تاریخ، وقت، مقام، شرائط اور گواہوں کی تفصیل لازمی ہے اور عدالتی تحریری مؤقف سے ہٹ کر دی گئی شہادت قابل قبول نہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ مدعیان کے مطابق 1992 میں ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کے بعد صلح ہوئی اور جرگے میں فیصلہ ہوا کہ غلام علی 32 کنال زمین مدعیان کو دے گا۔ مدعیان کا دعویٰ تھا کہ صلح کے بعد زمین کا قبضہ بھی انہیں دے دیا گیا، تاہم 2016 میں غلام علی نے انتقال رجسٹرڈ کرانے سے انکار کر دیا۔ٹرائل کورٹ نے ابتدائی طور پر مدعیان کا دعویٰ خارج کیا تھا، جبکہ اپیل میں مخصوص کارکردگی کا دعویٰ منظور ہوا۔ بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور لاہور ہائیکورٹ نے بھی نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔