اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی قرضوں میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 18 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 5.86 ارب ڈالر کی بیرونی مالی معاونت ملی، جس میں 5.76 ارب ڈالر کے نئے قرضے اور 9 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی گرانٹس شامل ہیں۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں قرضوں میں 91 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر کی قسط شامل ہونے سے حجم بڑھ کر 6.76 ارب ڈالر ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال حکومت نے یومیہ بنیاد پر تقریباً 7.86 ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے، جس کی پاکستانی کرنسی میں مالیت 1904 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر، چین نے ایک ارب ڈالر کا قرض رول اوور کیا، جبکہ پہلے آٹھ ماہ میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں نے 2.37 ارب ڈالر فراہم کیے۔نئے پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت بھی 1.76 ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے، عالمی بینک نے 72 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے 66 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی۔اسلامی ترقیاتی بینک نے مختصر مدت کے لیے 48 کروڑ ڈالر سے زائد قرض فراہم کیا، جبکہ مختلف دوست ممالک نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے زائد کی مالی معاونت دی۔ماہرین کے مطابق یہ مالیاتی امداد ملکی اقتصادی استحکام کے لیے اہم ہے، تاہم بڑھتے ہوئے قرضوں کے حجم پر محتاط پالیسی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو بیرونی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ، مالی سال میں 5.86 ارب ڈالر کی مالی معاونت
3 گھنٹے قبل