پاکستان نے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت کی پیشکش مسترد کر دی

4 گھنٹے قبل
پاکستان نے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت کی پیشکش مسترد کر دی

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان نے ایک بار پھر آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اور انسدادِ بدعنوانی فریم ورک میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے تکنیکی معاونت مشن بھیجنے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے جائزہ اجلاس کے دوران آئی ایم ایف نے یہ پیشکش دہرائی، تاہم وزارتِ خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کے پاس 142 نکاتی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے اندرونی صلاحیت موجود ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس سے قبل بھی آئی ایم ایف پاکستان میں گورننس مضبوط بنانے اور بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تکنیکی معاونت کی خواہش ظاہر کر چکی ہے، لیکن حکومت پہلے ہی برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس سے اس ایکشن پلان پر عمل درآمد میں معاونت حاصل کر رہی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے 59 ترجیحی اور 83 تکمیلی اقدامات پر مشتمل اصلاحاتی منصوبہ جاری کیا تھا، جس پر آئندہ تین برس میں عمل درآمد کیا جانا ہے۔حکومت نے کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ تقریباً دو ماہ کی تاخیر سے جاری کی، جب آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کے لیے اسے پیشگی شرط قرار دیا تھا۔ادھر گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کی حالیہ رپورٹ میں آئی ایم ایف کی تشخیصی رپورٹ کو تجزیاتی طور پر مضبوط اور غیر معمولی حد تک واضح قرار دیا گیا، تاہم اس میں کچھ اہم امور کو نظر انداز کرنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔