نیو یارک( شوبز ڈیسک)پاپ موسیقی کے لیجنڈ مائیکل جیکسن کی جائیداد ایک بار پھر قانونی تنازع کی زد میں آ گئی ہے، جہاں چند افراد نے بچوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال سے متعلق سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کیشچو خاندان سے تعلق رکھنے والے بہن بھائی ایڈورڈ، ڈومینک، میری نکول اور ایلڈو نے دعویٰ کیا ہے کہ مائیکل جیکسن نے کم عمری میں انہیں اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے ذہنی طور پر قابو میں رکھا اور ان کا استحصال کیا۔قانونی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مبینہ واقعات کئی برس تک دنیا کے مختلف مقامات پر پیش آتے رہے، یہاں تک کہ بعض متاثرین کی عمر سات یا آٹھ سال بتائی گئی ہے۔درخواست کے مطابق متاثرہ افراد کی ملاقات گلوکار سے اپنے والد کے ذریعے ہوئی تھی، جو ایک ایسے ہوٹل میں ملازم تھے جہاں مائیکل جیکسن قیام کیا کرتے تھے۔ مزید کہا گیا ہے کہ بعض مواقع پر یہ مبینہ واقعات اس وقت بھی پیش آئے جب گلوکار اپنے بچوں کے ہمراہ متاثرین کے گھر گئے۔دوسری جانب مائیکل جیکسن کی جائیداد کے وکیل مارٹی سنگر نے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیشچو خاندان دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جیکسن کی بے گناہی کی حمایت کرتا رہا اور اب اچانک یہ الزامات عائد کرنا بھاری رقم حاصل کرنے کی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔