تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمینوں کو “ریاستی ملکیت” قرار دینے کے ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگر فلسطینی اپنی زمین کی ملکیت ثابت نہ کر سکیں تو زمین ریاست کے نام پر درج ہو جائے گی، جس پر فلسطینی قیادت اور خطے کے کئی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ تجویز وزیر خزانہ سموٹرچ، وزیر انصاف اور وزیر دفاع کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے سے زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع ہوگا، جو 1967 میں مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد معطل تھا۔ نئی پالیسی کے تحت رجسٹریشن کے دوران زمین کا دعویٰ کرنے والوں کو ملکیت کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔فلسطینی صدارتی دفتر نے اس اقدام کو “سنگین اشتعال انگیزی” اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور اسے عملی الحاق (ڈی فیکٹو اینیکسشن) کے مترادف کہا۔ فلسطینی قیادت نے امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حماس نے بھی اسے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل قبضے کو قانونی شکل دینا چاہتا ہے۔
اسرائیل نے ویسٹ بینک کی زمینیں ریاستی ملکیت قرار دے دیں
14 گھنٹے قبل