لاہور( سپورٹس ڈیسک)ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاکستان ٹیم سپر ایٹ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی، اور غیر معیاری کارکردگی پر کھلاڑیوں پر ہر جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں پر 50، 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے، تاہم ذمہ داری صرف پلیئرز کی نہیں بلکہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی من مانیوں کا بھی اثر ہے۔ذرائع کے مطابق ہیسن نے نہ صرف سلیکٹر بلکہ کپتان کے کام بھی سنبھال رکھے تھے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے انہیں اختیارات دیے تھے، لیکن کوچ نے حد سے تجاوز کر کے ٹیم کے فیصلوں پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں گرین شرٹس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ورلڈکپ سے قبل سلیکٹرز نے جو اسکواڈ منتخب کیا، اس میں بابر اعظم شامل نہیں تھے، لیکن ہیسن نے زور دے کر انہیں ٹیم میں شامل کروایا۔ انہوں نے ایشیا کپ کے دوران مڈل آرڈر کی کمزوری کے سبب سینئر بیٹر کی شمولیت ضروری قرار دی، جو غلط ثابت ہوئی اور بابر اعظم بدترین ناکامی کا شکار ہوئے۔