ہمدردی قانون کی جگہ نہیں لے سکتی:وفاقی آئینی عدالت

1 دن قبل
ہمدردی قانون کی جگہ نہیں لے سکتی:وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد( پاکستان خبر) وفاقی آئینی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ ہمدردی یا ذاتی اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے اور ججز کو انصاف کے فیصلے قانون کے مطابق کرنے ہوں گے۔مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ججز کو جذبات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتی اور عدالتی ساکھ صرف قانون پر عمل درآمد میں مضمر ہے۔عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا، جس کے تحت ایک طالبعلم کو اسپیشل یا سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ قانون یا ریگولیشن میں ایسی کوئی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ذاتی ہمدردی یا احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔عدالت نے مزید کہا کہ ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف کرنا ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان افراد کے تحت نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے۔ ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں اور انہیں صرف وہی اختیار حاصل ہے جو قانون یا آئین میں دیا گیا ہو۔ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔واضح رہے کہ یہ معاملہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم سے متعلق تھا، جو گردے کی پیوند کاری کی وجہ سے سالانہ امتحان اور سپلیمنٹری امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ طالبعلم کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو دی گئی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔