اسلام آباد( پاکستان خبر)اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور شہر بھر میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق حساس مقامات اور ریڈ زون کے اطراف پولیس کے ساتھ رینجرز اور ایف سی کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔شہر کی مختلف شاہراہوں پر اضافی ناکے قائم کیے گئے ہیں اور داخل ہونے والی ہر گاڑی کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے، جبکہ کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔سیکیورٹی مزید سخت بنانے کے لیے پنجاب سے اڑھائی ہزار سے زائد پولیس اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جن میں ایک ڈی آئی جی، آٹھ ڈی پی اوز اور سولہ سینئر پولیس افسران شامل ہیں، جبکہ آٹھ سو ایلیٹ فورس کمانڈوز بھی سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔یہ نفری اہم شخصیات کی موجودگی تک اسلام آباد میں قیام کرے گی اور مقامی پولیس کے ساتھ مل کر حفاظتی فرائض انجام دے گی۔شہر میں صفائی ستھرائی اور خوبصورتی کے کام بھی تیز کر دیے گئے ہیں، سڑکوں کی صفائی اور فٹ پاتھوں کی رنگ و روغن کا عمل جاری ہے تاکہ ممکنہ سفارتی سرگرمیوں کے لیے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔