کراچی( کامرس ڈیسک) گزشتہ ہفتے پاکستان میں معیاری روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ ملک میں روئی کی محدود دستیابی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث درآمدی سرگرمیاں معطل ہونے سے فی من روئی کی قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 17 ہزار روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے اور پولیسٹر فائبر کی فی کلو قیمت میں 30 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں سوتی دھاگے کی قیمت میں اضافہ ہوا اور روئی کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔احسان الحق نے مزید بتایا کہ مقامی ٹیکسٹائل ملیں موسم گرما کے ملبوسات کی تیاری کے لیے گذشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ معیاری روئی کی خریداری کر رہی ہیں۔ ابتدا میں یہ ضرورت درآمدی روئی سے پوری کی جا رہی تھی، لیکن عالمی جنگی حالات کے باعث درآمدی شپمنٹس معطل ہونے کے بعد ٹیکسٹائل ملوں نے مقامی کاٹن مارکیٹ سے روئی خریدنا شروع کر دیا ہے، جس سے قیمتوں میں اضافے کا رحجان جاری ہے۔
امریکی اسرائیل ایران جنگ کے اثرات: پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
1 گھنٹے قبل