اسلام آباد( کامرس ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بلومبرگ نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان میں خوراک اور ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان کی معیشت میں حالیہ عرصے میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم خطے میں جاری جنگ کے باعث اس پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت اب بھی بیرونی امداد پر انحصار کر رہی ہے، جس سے خطرات برقرار ہیں۔بلومبرگ کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں شرح نمو تین اعشاریہ نو فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں یہ شرح ایک اعشاریہ تہتر فیصد تھی، جو معاشی بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر مرکزی بینک نے شرح سود برقرار رکھی ہے، جبکہ مارچ میں مہنگائی بڑھ کر سات اعشاریہ تین فیصد ہو گئی۔ادارے نے خبردار کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث معاشی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے، برآمدات گیارہ ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں اور حکومت نے ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ حکومت نے تین ہفتوں میں ایک سو انتالیس ارب روپے خرچ کیے، جبکہ ایندھن کی کھپت میں دس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، زرعی اور صنعتی شعبوں کی رفتار سست رہی تاہم خدمات کے شعبے میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔