واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا، جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا۔وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس تمغے کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ماریا کورینا ماچاڈو نے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ تمغہ پیش کیا، جو باہمی احترام اور قدردانی کی علامت ہے۔ماریا کورینا ماچاڈو نے ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحفہ وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے صدر ٹرمپ کے کردار کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ تاہم ناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبیل انعام قانونی طور پر منتقل، تقسیم یا واپس نہیں کیا جا سکتا اور یہ اعزاز بدستور ماچاڈو ہی کے نام سے منسوب رہے گا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کیا تھا کہ ماریا کورینا ماچاڈو کو وینزویلا کی قیادت سونپی جائے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور ماچاڈو کو گزشتہ ماہ یہ اعزاز ملنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی براہِ راست ملاقات تھی، جس کے بعد ماریا کورینا ماچاڈو نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ ماچاڈو سے ملاقات کے خواہشمند تھے، تاہم وہ اب بھی اس مؤقف پر قائم ہیں کہ فی الحال ماچاڈو کے پاس وینزویلا کی قیادت کے لیے درکار حمایت موجود نہیں۔
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے نوبیل امن انعام کا تمغہ صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا
1 ہفتے قبل