وا شنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف انتہا پسند حملوں اور مظالم پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیشن کے مطابق موجودہ سال کے آغاز سے بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں اوڑیسہ میں ایک پادری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جانا شامل ہے۔کمیشن نے کہا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات پر اقلیتوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف سفاکانہ حملے کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اترپردیش میں گھر کے اندر عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کو حراست میں لیا جانا ایک خطرناک پیش رفت ہے۔امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے پر قائم مودی حکومت اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے اقلیتوں کے خلاف منظم اقدامات کر رہی ہے اور مذہبی اقلیتوں کو قومی اور سماجی دھارے سے الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔بین الاقوامی ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی نفرت پر مبنی پالیسیوں نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور محفوظ مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر یہ معاملہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
امریکی ادارے کا بھارتی اقلیتوں پر مظالم پر تشویش کا اظہار
13 گھنٹے قبل