کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)طالبان حکومت پر افغانستان کے قدرتی وسائل کی منظم لوٹ مار کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے ملک کے شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں سونے کی کانوں پر زبردستی قبضے شروع کر دیے ہیں، جس سے مقامی آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔افغان جریدے ہشت صبح نے رپورٹ میں بتایا کہ بدخشاں، تخار اور فراہ سمیت کئی صوبوں میں سونے کی کانوں کی اطلاع ملتے ہی طالبان عناصر مقامی مالکان کو بے دخل کر کے خود وہاں قابض ہو جاتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی شہریوں کو سونا نکالنے کے پرمٹ جاری نہیں کیے جا رہے، جبکہ طالبان کے حامی افراد کو مخصوص حصہ طے کر کے کانوں پر کام کی اجازت دی جاتی ہے۔صوبہ تخار میں سونے کی کانوں پر قبضے کے خلاف مقامی افراد نے احتجاج کیا، جس کے دوران طالبان کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ اس صورتحال نے علاقے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔