کراچی ( کامرس ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں تنازع ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کی نئی لہر پیدا کر رہا ہے۔اگرچہ یہ تنازع بیرونی ہے، لیکن اس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر براہِ راست محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو ماہرین نے ’’پٹرول بم‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے مالیاتی توازن متاثر ہونے کے خدشات کے ساتھ بیرونی کھاتوں پر دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔7 مارچ 2026 کو پٹرولیم لیوی میں نظرثانی کے بعد پٹرول پر یہ لیوی 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا اور ماہانہ درآمدی بل میں تقریباً 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہونے کا اندازہ ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بگڑ سکتا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان، جس نے پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم رکھنے کی پیش گوئی کی تھی، اب مہنگائی اور بیرونی کھاتوں کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیش گوئی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات کے باعث خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہونے سے مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، معیشت پر دباؤ
1 گھنٹے قبل