غزہ( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ احکامات خاص طور پر خان یونس کے مشرقی علاقے بنی سہیلہ میں دیے گئے، جہاں درجنوں خاندان مقیم ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کے روز الرقیب محلے میں خیموں اور جزوی طور پر تباہ گھروں میں رہنے والے خاندانوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے پمفلٹس گرائے گئے۔ یہ پمفلٹس عربی، عبرانی اور انگریزی زبان میں تھے، جن میں لکھا تھا کہ علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اور فوری انخلا کیا جائے۔مقامی رہائشیوں اور حماس کے ایک ذریعے کے مطابق جنگ بندی کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ اس نوعیت کے انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ جنگ سے قبل اسرائیلی فوج ان علاقوں میں اسی طرح کے پمفلٹس گراتی تھی جہاں بعد میں کارروائیاں یا بمباری کی جاتی تھی، جس کے باعث خاندانوں کو بار بار نقل مکانی کرنا پڑتی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انخلا کے احکامات کے بعد مقامی خاندانوں کی صورتِ حال مزید نازک ہو سکتی ہے اور انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں انخلا کے احکامات جاری کردیئے
1 ہفتے قبل