روسی تیل پر انحصار بھارت کے لیے مہنگا ثابت ہونے لگا، امریکی ٹیرف میں بڑے اضافے کا امکان

2 ہفتے قبل
روسی تیل پر انحصار بھارت کے لیے مہنگا ثابت ہونے لگا، امریکی ٹیرف میں بڑے اضافے کا امکان

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) روس سے سستے تیل کی درآمد پر بھارت کے بڑھتے انحصار نے اب سفارتی اور تجارتی محاذ پر نئی مشکلات کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف میں اضافے کے امکانات پر سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے، جس سے بھارتی معیشت کو مزید دبا کا سامنا ہو سکتا ہے۔بھارتی جریدے *انڈیا ٹوڈے* کے مطابق گزشتہ برس امریکا نے بعض بھارتی درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا تھا، جبکہ روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد جرمانہ عائد کیے جانے کے باعث کچھ مصنوعات پر مجموعی ڈیوٹی 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔رپورٹس کے مطابق دسمبر 2025 میں بھی امریکی حکام کی جانب سے بھارتی چاول سمیت بعض دیگر زرعی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے امکان کا اظہار کیا گیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی بات چیت میں تعطل پیدا ہوا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی ٹیرف اور عالمی پابندیوں کے خدشات نے بھارت کے معاشی ماڈل کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں توانائی کے سستے ذرائع کی تلاش نے اگرچہ بھارت کو قلیل مدت میں فائدہ دیا، تاہم طویل مدت میں یہ حکمت عملی سفارتی سطح پر چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔ملکی سطح پر بھی معاشی عدم توازن پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت میں بڑے کاروباری گروپس کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث عام شہریوں کو معاشی دبا کا سامنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تجارتی اور توانائی پالیسیوں میں توازن پیدا کرے تاکہ عالمی منڈی میں اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔