اسلام آباد( کامرس ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے وفد کے آئندہ ماہ پاکستان آمد کا امکان ہے، جہاں وہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری اور ملک کے اہم معاشی اہداف پر تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے لیے سب سے بڑا چیلنج فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کمزور کارکردگی ہوگی، کیونکہ ٹیکس اہداف بار بار پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس ادارے سے متعلق تشویش برقرار ہے۔وفد ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ریونیو میں اضافے کے لیے دباؤ برقرار رکھے گا، اور ڈیجیٹل ٹیکس نظام اور انوائسنگ کے لازمی نفاذ پر بھی زور دیا جائے گا تاکہ ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے۔مزید برآں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضہ کم کرنے کی حکمت عملی، بجلی و گیس کے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، نجکاری پروگرام اور سرکاری اداروں کی اصلاحات پر بھی مشاورت متوقع ہے۔ گورننس، شفافیت اور کرپشن کے خلاف اقدامات بھی زیر غور آئیں گے۔ذرائع کے مطابق آئندہ ریویو میں کارکردگی کی بنیاد پر آئی ایم ایف کی جانب سے نئی قسط کے اجرا کا فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں مزید شرائط عائد ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
آئی ایم ایف کا وفد آئندہ ماہ پاکستان آئے گا، ایف بی آر کی کمزور کارکردگی چیلنج
2 گھنٹے قبل