انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن گئی

1 ہفتے قبل
انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن گئی

 کابل( ماینٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد جنم لینے والی انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد یورپی ممالک میں مہاجرین سے متعلق سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے شہر میونخ میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں ملوث افغان شہری کے خلاف عدالت میں باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی ہے۔ استغاثہ کا مقف ہے کہ ملزم نے دانستہ طور پر لوگوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کی کمسن بیٹی جان سے گئیں جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم پر اس سے قبل بھی سنگین جرائم اور کئی افراد کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ واقعے کے بعد جرمن چانسلر نے واضح کیا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔یاد رہے کہ اس واقعے سے قبل بھی جرمنی اور دیگر مغربی ممالک میں ایسے حملے سامنے آ چکے ہیں جن کے بعد امیگریشن پالیسی اور سیکیورٹی اسکریننگ پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور جانچ کے نظام کو مزید مثر بنایا جا رہا ہے۔