واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کے بعد ڈنمارک کی خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے محدود فوجی تعیناتی کا اعلان کر دیا ہے، جسے خطے میں بڑھتی حساسیت کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔یہ فوجی تعیناتی نیٹو کی مشترکہ مشق آپریشن آرکٹک اینڈیورنس کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہے، جس کی قیادت ڈنمارک کر رہا ہے، تاہم اس مشق میں امریکا شامل نہیں ہے۔ اس اقدام کو یورپی اتحادیوں کی جانب سے ڈنمارک کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایک فوجی افسر، نیدرلینڈز نے ایک جبکہ فن لینڈ، ناروے اور سویڈن نے دو، دو فوجی اہلکار گرین لینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ فرانس نے 15 اور جرمنی نے 13 فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں، جس کے بعد ڈنمارک کے سوا دیگر یورپی ممالک کے مجموعی طور پر تقریباً 37 فوجی اس مشق میں شریک ہوں گے۔واضح رہے کہ ڈنمارک پہلے ہی گرین لینڈ میں تقریباً 150 فوجی اہلکار تعینات کر چکا ہے، جن میں ایلیٹ سیریئس ڈاگ سلیڈ پیٹرول بھی شامل ہے۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ، سویڈن، ناروے، فن لینڈ اور نیدرلینڈز اس مشق کا حصہ ہیں، جبکہ پولینڈ، اٹلی اور ترکیہ نے اس آپریشن میں فوجی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گرین لینڈ پر یورپ کا واضح پیغام، محدود فوجی تعیناتی کا اعلان
1 ہفتے قبل