پیرس( مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے 2025 میں دنیا بھر میں 128 صحافیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں سے نصف سے زیادہ مشرق وسطی کے علاقے میں ہلاک ہوئے۔IFJ کے جنرل سیکرٹری انتھونی بیلانگر نے کہا کہ یہ گزشتہ برسوں میں سب سے سنگین صورتحال ہے، اور یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ صحافیوں کے لیے عالمی سطح پر ریڈ الرٹ ہے۔ غزہ میں حماس اور اسرائیل کی لڑائی میں ایک سال کے دوران 56 صحافی جان سے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ یمن، یوکرین، سوڈان، پیرو، بھارت اور دیگر ممالک میں بھی صحافیوں پر حملے ہوئے، اور انصاف نہ ملنے کی وجہ سے قاتلوں کے لیے صورتحال مزید خطرناک بن رہی ہے۔IFJ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 533 صحافی قید ہیں، جو پچھلے پانچ سال کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہیں۔ چین میں سب سے زیادہ 143 صحافی قید ہیں، جبکہ ہانگ کانگ میں بھی حالات تشویشناک ہیں، جہاں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔رپورٹرز ود آٹ بارڈرز کے مطابق 2025 میں 67 صحافی اپنے کام کے دوران ہلاک ہوئے، جبکہ یونیسکو کی رپورٹ میں یہ تعداد 93 بتائی گئی ہے۔ IFJ نے کہا کہ مارے جانے والے صحافیوں کی گنتی میں 9 افراد ایسے بھی شامل ہیں جن کی موت حادثات کے باعث ہوئی۔انتھونی بیلانگر نے صحافیوں کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس معاملے میں فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ صحافیوں کے قاتلوں کو پنپنے کا موقع نہ ملے۔