اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) حکومت نے ماحولیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر کے بجٹ سپورٹ قرض کے حصول کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ مہنگی خریداری پر اعتراضات کے باعث چالیس ملین ڈالر کا منصوبہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحت کلائمیٹ ڈیزاسٹر ریزیلینس پروگرام کے لیے قرض کی منظوری دی، جس میں سے پانچ سو ملین ڈالر فوری جاری کیے جائیں گے جبکہ باقی رقم ہنگامی حالات کے لیے مختص ہوگی۔حکام کے مطابق اس رقم کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنا ہے اور توقع ہے کہ فنڈز جون سے قبل موصول ہو جائیں گے، حکومت دیگر دوست ممالک سے بھی مالی تعاون کے لیے رابطے میں ہے۔دستاویزات کے مطابق قرض کی رقم ادارہ جاتی استعداد بڑھانے، قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ منصوبے پر عملدرآمد، ایمرجنسی مراکز کے قیام اور سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔دوسری جانب عالمی بینک کے چالیس ملین ڈالر کے پبلک ریسورس منصوبے کو مہنگی اشیاء کی خریداری کے اعتراضات پر مؤخر کر دیا گیا، جس میں لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز اور فرنیچر کی غیر معمولی قیمتیں سامنے آئی تھیں۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اخراجات اور خریداری کے عمل کا جائزہ لے گی۔